جمعرات 27 اگست 2026 - 13:58
رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلم امہ کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کا عملی سبق دیا

حوزہ/محترمہ پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس نے میلادالنبی اور ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو میں رہبرِ شہید کی عالم اسلام کے لیے خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلم امہ کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کا عملی سبق دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی: ہفتۂ وحدت اور میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی بابرکت مناسبت سے پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس، ڈائریکٹر مرکزِ تحقیقِ ریاضیاتی علوم (MSRC)، صدرِ شعبۂ ریاضیاتی علوم، بانی و نگران، LAMDA، الطوسی STAR و الخوارزمی DIUI مسلم ریاضی دان تحقیقی یونٹس، وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کیمپس نے حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے امام خمینی کے نظریۂ وحدت کی اہمیّت، اتحاد امت کے عملی اقدامات، سوشل میڈیا اور عالمی ذرائعِ ابلاغ کا امت کے اختلافات میں کردار، وحدتِ امت میں دینی شخصیات، مفکرین اور دانشور حضرات سمیت تعلیمی اداروں کے کردار پر گفتگو کی ہے۔

محترمہ پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس پاکستان کراچی کی گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں پیش خدمت ہے:

حوزہ:سب سے پہلے ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے آپ سے امام خمینیؒ کے نظریۂ وحدت کی اہمیت جاننا چاہیں گے۔

ڈاکٹر شاہین عباس: میرے نزدیک امام خمینیؒ کا نظریۂ وحدت محض ایک مذہبی یا علامتی تصور نہیں، بلکہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کی ایک اہم اجتماعی ضرورت ہے۔ ہفتہ وحدت منانے کا بنیادی پیغام ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان موجود فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی اور انتشار کا ذریعہ نہ بنایا جائے، بلکہ مشترکہ عقائد، قرآنِ مجید، رسولِ خدا کی سیرت اور اسلامی معاشرے میں انسان سازی کی بنیاد پر اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔

ہفتۂ وحدت، یعنی اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن امت کی وحدت، مسلم ممالک کی خودمختاری، فلسطین، ایران اور لبنان کی حمایت اور مسلمانوں کے مشترکہ مفادات اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ آج جب امتِ مسلمہ کو بیرونی دباؤ، سیاسی بحرانوں اور اندرونی انتشار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے تو ایسے میں وحدتِ اسلامی محض ایک نظریاتی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ایک عملی ضرورت بن چکی ہے۔

اسی تناظر میں رہبرِ معظّم آیت الله العظمیٰ شہید سید علی حسینی خامنہ ای کی دوراندیشی، بصیرت اور عظیم قربانی کو بھی ہفتۂ وحدت کے عملی پیغام سے جوڑا جانا چاہیے، کیونکہ آپ کی ہی قربانی اور استقامت نے مسلمانوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ اسلام کی حقیقی طاقت باہمی اتحاد، اخوت، استقامت اور مشترکہ مقصد میں مضمر ہے۔ آپ کی قربانی نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کا ایک عملی سبق دیا ہے۔

لہٰذا ہفتۂ وحدت ہمارے لیے محض ایک ہفتے کی تقریبات کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل فکری، اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ امام خمینیؒ کی وحدتِ اسلامی کی بصیرت اور رہبرِ معظم کی قربانی و استقامت کو سامنے رکھتے ہوئے امت کے درمیان اتحاد، احترام، اخوت اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں۔ ہمیں اختلافات کو نفرت کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں علمی دائرے تک محدود رکھتے ہوئے امت کے وسیع تر مفاد اور اسلام کی سربلندی کو مقدم رکھنا چاہیے۔

حوزہ:اس وقت عالمِ اسلام کو فلسطین، غزہ اور خطے کے دیگر بحرانوں سمیت شدید سیاسی و فکری چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں اتحادِ امت کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے؟

پروفیسر شاہین عباس: اتحاد صرف نعروں سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے پیدا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مسلم معاشروں میں ایک دوسرے کے مسالک اور مکاتبِ فکر کو سمجھنے اور احترام کرنے کی علمی فضا پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے علماء، جامعات، مذہبی و سماجی اداروں اور ذرائعِ ابلاغ کو مل کر مکالمے، برداشت اور مشترکہ دینی اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔

موجودہ عالمی حالات، خصوصاً فلسطین اور غزہ کی صورتِ حال، ہمارے لیے اتحادِ امت کا ایک عملی امتحان بھی ہے۔ فلسطین صرف کسی ایک مسلک، قوم یا ملک کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور مظلوم کی حمایت کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اخلاقی، انسانی اور اصولی یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے اور عالمی سطح پر ان کے حق میں مؤثر آواز بلند کرنی چاہیے۔

اسی طرح مسلم دنیا کو غربت، جہالت، علمی و سائنسی پسماندگی اور باہمی انتشار جیسے مسائل پر بھی مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اگر ہم مشترکہ مسائل پر متحد نہیں ہوں گے تو ہمارے داخلی اختلافات ہمیں مزید کمزور کرتے رہیں گے۔

میرے نزدیک آج اتحادِ امت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں، مشترکہ مسائل پر ایک آواز بنیں، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے اپنے دائرۂ کار میں اسلام کے عدل، اخوت، علم اور انسانیت کے پیغام کو عملی شکل دیں۔

حوزہ: جامعات میں تدریس اور علمی سرگرمیوں سے وابستہ ہونے کی حیثیت سے آپ کے نزدیک نوجوان نسل میں بین المسالک رواداری، وحدتِ اسلامی اور مشترکہ دینی اقدار کے فروغ کے لیے تعلیمی ادارے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر شاہین عباس:جامعات نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کا اہم ترین مرکز ہیں۔ اس لیے بین المسالک رواداری، وحدتِ اسلامی اور مشترکہ دینی اقدار کے فروغ کے لیے جامعات کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ عملی کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے محرم الحرام اور ربیع الاول کے دوران جامعات میں یومِ حسینؑ، یومِ مصطفیٰ اور دیگر مذہبی و فکری پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، تاہم ان پروگراموں کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ سال بھر، خصوصاً سمسٹرز کے دوران، فلسطین و غزہ، عالمِ اسلام میں غربت و افلاس، علمی و سائنسی پسماندگی، مسلمانوں کے باہمی اختلافات، عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور بعض عالمی طاقتوں کے دوہرے معیارات جیسے موضوعات پر باقاعدہ علمی اور سنجیدہ سیمینارز، مکالمے اور تحقیقی سرگرمیاں ہونی چاہئیں، تاکہ نوجوانوں میں صرف پیشہ ورانہ مہارت نہیں، بلکہ علم، شعور، سماجی ذمہ داری، اتحاد اور انسانیت کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا احساس بھی پیدا ہو۔

اگر سیرتِ رسولِ اکرم، درسِ کربلا، وحدتِ اسلامی، فلسطین اور عالمِ اسلام کے موجودہ حالات پر مشترکہ پروگرامز منعقد ہوں، جن میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، اساتذہ اور طلبہ شریک ہوں تو ان کا مقصد کسی ایک مسلک یا گروہ کی نمائندگی نہیں، بلکہ اسلام کے مشترکہ اور عالمگیر پیغام کو سمجھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر واقعۂ کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعے کے طور پر نہیں، بلکہ حق، عدل، حریت، ظلم کے خلاف استقامت اور انسانی وقار کے عملی درس کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسی طرح سیرتِ رسولِ اکرم کے ذریعے آپؐ کے اخلاق، عدل، اخوت، برداشت، رواداری اور انسانیت سے محبت کو ہماری عملی زندگی کا حصہ بنانے پر توجہ دی جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وحدت صرف پروگراموں اور تقریبات تک محدود نہ رہے، بلکہ تعلیمی اداروں کے ماحول اور ہمارے عملی رویّوں میں بھی نظر آئے۔ علماء، اساتذہ اور طلبہ ایک دوسرے کے احترام، برداشت اور باہمی تعاون کا عملی نمونہ بنیں، کیونکہ اگر تعلیمی اداروں کا اپنا ماحول گروہی یا مسلکی تعصبات کا شکار ہو تو صرف تقریروں سے وحدت کا پیغام مؤثر نہیں ہو سکتا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف مذہبی اجتماعات میں شرکت یا مذہبی رسومات کی ادائیگی تک محدود نہیں، بلکہ اسلام کی روح کو سمجھنا، اپنے کردار و معاملات میں اسے نافذ کرنا، معاشرے میں انصاف و اخوت قائم کرنا اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح فلسطین اور دیگر مظلوم انسانوں کے حوالے سے جامعات کے نوجوانوں میں یہ شعور پیدا کرنا چاہیے کہ اسلام ظلم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مثال بھی قابلِ غور ہے کہ ایران نے فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ یہاں اصل سبق کسی ایک ملک یا حکومت کی تقلید نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود کسی مشترکہ اصول اور مقصد پر متحد ہو کر مظلوم کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے۔

میرے نزدیک جامعات کا اصل مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو اپنی فیلڈ کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار، باشعور اور باکردار انسان بھی ہوں۔ وحدتِ اسلامی کا حقیقی مفہوم فقہی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام، مشترکہ اقدار پر اتفاق، مکالمہ، اخوت، مظلوم کی حمایت اور اسلام کے حقیقی پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔

رہبرِ معظم کی شہادت نے مسلم امہ کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کا عملی سبق دیا

حوزہ: آج سوشل میڈیا اور عالمی ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے مذہبی اختلافات کو بڑھانے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسے میں علماء، اساتذہ اور دانشور حضرات کی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟

پروفیسر شاہین عباس:آج مذہبی اختلافات کو بڑھانے میں عالمی ذرائعِ ابلاغ اور سوشل میڈیا، دونوں کا کردار اہم ہے، تاہم دونوں میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ عالمی ذرائعِ ابلاغ میں عموماً ادارتی پالیسی اور کسی نہ کسی سطح کا چیک اینڈ بیلنس موجود ہوتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو براہِ راست ابلاغ کا ذریعہ دے دیا ہے، جہاں غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز مواد بھی تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ اس میں صرف غیر مسلم میڈیا ہی نہیں، بلکہ بعض مسلم ممالک کے ذرائعِ ابلاغ اور مختلف مذہبی و مسلکی پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں، جہاں بعض اوقات سیاسی، مذہبی یا مفاداتی وابستگیوں کے باعث اختلاف کو مزید نمایاں کیا جاتا ہے۔

اس صورتِ حال میں علماء، اساتذہ اور دانشوروں کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ سب سے پہلے مذہبی اختلاف کو تصادم کے بجائے مکالمے میں تبدیل کرنا ہوگا؛ لیکن یہ مکالمہ علمی، باوقار اور دلیل و احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔ دوسری اہم ذمہ داری عوام، خصوصاً نوجوانوں میں آگاہی اور میڈیا لٹریسی پیدا کرنا ہے کہ ہر وائرل ویڈیو، خبر یا مذہبی دعویٰ درست نہیں ہوتا اور کسی بھی مواد کو تحقیق کے بغیر آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔

مذہبی اجتماعات اور دیگر مواقع پر بھی لوگوں کو پہلے سے یہ شعور دینا ضروری ہے کہ اشتعال انگیزی، افواہوں اور مسلکی منافرت سے کیسے بچنا ہے۔ ہمیں قرآن، رسولِ اکرم اور اسلام کی بنیادی اور مشترک اقدار کو بنیاد بنا کر مشترکاتِ امت کو فروغ دینا ہوگا۔ اختلافات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں، لیکن انہیں دشمنی اور تصادم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

میرے نزدیک اتحادِ امت کا مطلب اختلافات کا خاتمہ نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام، مکالمے اور امت کے اجتماعی مفاد پر متحد رہنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha